جہالت کے باوجود یا تجربہ کی بنا پر علاج تجویز کرنا
⚡ جہالت کے باوجود یا تجربہ کی بنا پر علاج تجویز کرنا ⚡
(سوال) بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں کسی مریض سے ملاقات ہوئی فوراً کوئی دوا، گھریلو نسخہ یا یوٹیوب کا علاج بتانے لگتے ہیں، حالانکہ وہ نہ طبیب ہوتے ہیں اور نہ مرض کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟
(جواب) اگر کوئی شخص طب کا ماہر نہ ہو، پھر بھی محض اندازے یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر علاج تجویز کرے، تو یہ جائز نہیں، خصوصاً جب اس سے مریض کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ. یعنی نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاؤ۔ (سنن ابن ماجہ، م: ٢٣٤٠) نیز فرمایا: مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ. یعنی جو شخص طبیب نہ ہو اور علاج کرے، وہ (نقصان کی صورت میں) ذمہ دار ہے۔" (سنن أبي داود، م: ٤٥٨٦) البتہ کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے یا اپنے آزمودہ تجربے کو محض مشورے کے طور پر بیان کرنا، اور مریض کو ڈاکٹر سے رجوع کی تلقین کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
اشاعت علم کی نیت سے شیر کریں۔ 🌺
